نئی دہلی، 20؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )گجرات میں دلت کمیونٹی کے کچھ لوگوں کی پٹائی کے واقعہ کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے آج کہا کہ یہ انتہائی تکلیف دہ ہے کہ آزادی کے اتنے سال بعد بھی دلتوں پر مظالم کے واقعات ہو رہے ہیں۔انہوں نے اسے سماجی لعنت قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کے لیے سب سے مل کر کام کرنے کی اپیل کی ۔راج ناتھ نے لوک سبھا میں کہا کہ گجرات کے اس معاملے میں 9 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے اور آئی پی سی اور دیگر قانون کی مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور فوری تحقیقات کی پہل کی جا رہی ہے۔متاثرہ شخص کو 4-4 لاکھ روپے کی مالی مدد دینے کا اعلان کیا گیا ہے جن میں سے اب تک ایک یک لاکھ روپے فراہم کر دیئے گئے ہیں۔وقفہ صفر میں کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ کے سریش نے اس مسئلے کو اٹھایا اور گجرات میں لاء اینڈ آرڈر کی ناقص صورت حال کا الزام لگاتے ہوئے اس کی جانچ کے لیے پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔راج ناتھ نے کہاکہ دلتوں پر مظالم کا واقعہ چاہے بی جے پی کی حکمرانی والی ریاست میں ہو یا کانگریس کی حکمرانی والی ریاست میں یا کہیں اور ہو، قابل مذمت ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست میں پیش آئے اس واقعہ پر مرکز اور ریاست کی بی جے پی حکومت کو گھیرنے کی کانگریس، لیفٹ اور دیگر جماعتوں کی کوششوں کے درمیان وزیر داخلہ نے جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ 1991سے 1999تک گجرات میں دلتوں کے خلاف جرم کے معاملے مسلسل بڑھے ، جس وقت ریاست میں کانگریس کی حکومت تھی جبکہ 2001کے بعد سے اس طرح کے معاملات میں کمی درج کی گئی ہے ، جب بی جے پی کی حکومت تھی۔راج ناتھ سنگھ نے کانگریس پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ پورے ملک میں 2004میں درج فہرست ذات وقبائل سمیت دلتوں کے خلاف مظالم کے 32ہزار سے زائد مقدمات درج کیے گئے جبکہ 2005میں 29ہزار معاملے ، 2006میں 32ہزارمعاملے ، 2007میں 35ہزار سے زائد معاملے ، 2008میں 38ہزار سے زیادہ معاملے ، 2009میں 34ہزار سے زیادہ معاملے درج کیے گئے۔اس دوران مرکز میں ہماری حکومت نہیں بلکہ کانگریس کی حکومت تھی۔
وزیر داخلہ کے جواب سے غیر مطمئن کانگریس، لیفٹ اور بعد میں ترنمول کانگریس کے اراکین نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔اس سے پہلے کانگریس کے ایم پی کے سریش نے اس موضوع کو اٹھاتے ہوئے کہا کہ گجرات میں لاء اینڈ آرڈر کی صورت حال سنگین ہے اور دلت کمیونٹی کے لوگ اس واقعہ کے بعد احتجاج کر رہے ہیں، لوگوں کا حکومت پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔کانگریس رکن نے اس کے لیے آر ایس ایس اور اعلی ذات کی لابی کو ذمہ دار ٹھہرایا جس کی حکمران بی جے پی اراکین نے مخالفت کی۔کے سریش نے الزام لگایا کہ دلت کمیونٹی کے کچھ لوگوں نے خود کشی کرنے کی کوشش کی کیونکہ ان کا ریاستی حکومت پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔انہوں نے الزام لگایاکہ تشدد آر ایس ایس کا ایجنڈا ہے۔آر ایس ایس دلت مکت ہندوستان کی کوشش کر رہی ہے۔حکومت مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے۔یہ حملہ بی جے پی اسپانسر تھا۔ریاست میں کیا ہو رہا ہے؟ سریش نے دعوی کیا کہ بی جے پی کا ایجنڈا ریاستوں میں اسمبلی انتخابات سے پہلے مختلف کمیونٹیوں کے پولرائزیشن کرنے کا ہے۔گجرات میں صورتحال سنگین ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے جو اس معاملے میں رپورٹ پیش کرے۔لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ملکاارجن کھڑ گے نے بھی گجرات کے معاملہ کی تحقیقات کے لیے پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔وقفہ سوال کے دوران بھی کانگریس، ترنمول کانگریس سمیت اپوزیشن کے اراکین نے گجرات میں دلتوں پر حملے کے معاملے کو اٹھایا۔کانگریس رکن وقفہ سوال کے دوران صدر کی کرسی کے پاس آکر نعرے بازی کر رہے تھے۔